Thursday, 8 September 2022

ان کے انداز کرم خاص ہوا کرتے ہیں

 ان کے اندازِ کرم خاص ہوا کرتے ہیں

دل بڑھانا ہو تو دل توڑ دیا کرتے ہیں

آرزوؤں کے بھی کیا کھیل ہوا کرتے ہیں

نقش بنتے ہیں اُبھرتے ہیں مٹا کرتے ہیں

ان کا منشا ہے جسے وقت کہا کرتے ہیں

ورنہ حالات بھی انسان کو کیا کرتے ہیں

ہوش کی سانس بھی کھل کر نہیں لی جا سکتی

لوگ کیا جان کے جینے کی دعا کرتے ہیں

وقت پڑنے پہ ہر اک آدمی کُھل جاتا ہے

آزمائش کے مقامات ہوا کرتے ہیں

زینتِ جیب و گریباں ہیں نہ زیبِ کاکُل

ہم ہیں وہ پھول جو بے فصل کِھلا کرتے ہیں

شوق آنسو ہی زبانِ غم و آلام نہیں کچھ

کچھ تبسم بھی یہ مفہوم ادا کرتے ہیں


خواجہ شوق

No comments:

Post a Comment