تم نے انگڑائی کو جب ہاتھ اٹھائے، ہائے
لوگ دل تھام کے کرنے لگے ہائے، ہائے
میری آنکھوں میں مقید ہے وہ پورا منظر
تم جو اقرار پہ شرمائے، لجائے، ہائے
کیا محبت ہے کہ ہم دونوں ہی خاموش رہے
آنسوؤں نے ہمیں احوال بتائے، ہائے
میں شرابی ہوں مگر پی کے بہکنے کا نہیں
کافر آنکھوں نے مِرے ہوش اڑائے، ہائے
یاد آئی بتِ کافر کی تو آتی ہی گئی
اشک آنکھوں نے تسلسل سے بہائے، ہائے
آس باقی ہے کہ آئے گا مسافر کوئی
خالی خالی ہے مِرے دل کی سرائے، ہائے
زندگی بھر کی ریاضت کا صلہ کچھ بھی نہیں
ہم تِرے شہر سے ناکام ہی آئے، ہائے
کسی اعزاز سے کچھ کم نہیں یہ بات سحر
اس نے مجھ کو مِرے اشعار سنائے، ہائے
سحر بلرام پوری
غلام جیلانی سحر
No comments:
Post a Comment