بس تو ہی تو دکھائی دیا کل جہان میں
لیکن تِری کمی ہے مِرے خاندان میں
ناداں نے رکھ لیا ہے عدو کو امان میں
کیا خوب حوصلہ ہے تنِ ناتوان میں
آنگن ہمارا ایک رہے عمر بھر رہے
مت کھینچنا لکیر کوئی درمیان میں
ہم ہیں زمین زادے، مبارک زمیں ہمیں
لیکن ہماری فکر اڑے آسمان میں
تصویر ایک جس سے تھا دیوار کا جمال
اب وہ پڑی ہوئی ہے کہیں کوڑے دان میں
دو چار لفظ سادہ بھی ہونٹوں پہ لائیے
ابہام تو نہ ڈالیے اپنے بیان میں
ابرار ابہام
No comments:
Post a Comment