Wednesday, 21 July 2021

لہو لہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی

 لہو لہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی

بریدہ حلق پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی

ابھی سے دشتِ بلا سے فراغتیں کیسی

بلند ہوتا ہوا سر بھی دیکھنا ہے ابھی

مصالحت کہاں ہو گی سپاہ شام کے ساتھ

زباں کی نوک پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی

نمیدہ چشم مسافت کی انتہا بھی نہیں

اداس نسل کو زد پر بھی دیکھنا ہے ابھی

تمہارے خواب مِری انگلیوں سے باہر ہیں

تمہارے خواب کو چُھو کر بھی دیکھنا ہے ابھی


واجد قریشی

No comments:

Post a Comment