Wednesday, 21 July 2021

یہ جو رشتہ ہے میرا مٹی سے

یہ جو رشتہ ہے میرا مٹی سے

روپ سارا ہے میرا مٹی سے

سبزہ کہتا ہے لوٹے جاؤ مجھے

دل کشادہ ہے میرا مٹی سے

میں ستارا نہیں ہوں سورج ہوں

گہرا رشتہ ہے میرا مٹی سے

میں تو خود رو درخت ہوں لیکن

پیٹ بھرتا ہے میرا مٹی سے

مطمئن ہوں کہ فصل اچھی ہے

سینہ ٹھنڈا ہے میرا مٹی سے

ہر حویلی میں دیپ روشن ہے

گاؤں زندہ ہے میرا مٹی سے

جو کہوں گا وہ سچ کہوں گا خلیل

کیونکہ رشتہ ہے میرا مٹی سے


خلیل رامپوری

No comments:

Post a Comment