Tuesday, 15 March 2022

راستے میں شام مل جائے گی

 ایک آدمی


راستے میں

شام مل جائے گی تنہا

تم اسے ہمراہ لے کر

گھومنا سنسان دریا کے کنارے

بیٹھ جانا

جب تھکاوٹ پاؤں پکڑے

بات کرنے کے لیے

ٹیلے ملیں گے

گنگنانے کی اگر خواہش ہوئی تو

روک لینا سرسراتی سی ہوا کو

نیند آ جائے

تو سو جانا کہیں بھی

رات ایسی ہی ملے گی

گھر سے باہر


وہاب دانش

No comments:

Post a Comment