وہ گیا گھر سے، مگر گھر سے گیا کچھ بھی نہیں
گھر میں ہر چند کہ تھا اس کے سوا کچھ بھی نہیں
جانے والے نے پہنچ کر سرِ دیوارِ افق
پوچھنے پر کہ ادھر کیا ہے، کہا، کچھ بھی نہیں
دور سے قوسِ قزح سا نظر آتا تھا جو اوج
دل کو شکوہ کہ ہوا کیا، وہ جو تھا پیشِ نظر
آنکھ کو ضد کہ مِری اس میں خطا کچھ بھی نہیں
ہم نہ کہتے تھے کہ باز آئیے غواصی سے
آئینہ ٹوٹ گیا اور ملا کچھ بھی نہیں
کیا ملا خود کے سِوا، اور ملا خود میں بھی کیا
کھل گیا قفل تو کیا ہاتھ لگا، کچھ بھی نہیں
کیا نگاہوں سے چھپاتا ہے مجھے میرا حباب
قابلِ دید مِرے پاس ہے کیا، کچھ بھی نہیں
آنکھ سے کل کی جو دیکھو گے تو سب کچھ ہے نیا
آج کی آنکھ سے دیکھو تو نیا کچھ بھی نہیں
جن سے ایما ہی کسی کا مِرے نسبت نہ کھلے
میرے نزدیک وہ انداز و ادا کچھ بھی نہیں
ہردہ کہتا ہے کہ ہے کوئی پسِ پردہ ضرور
اس سے آگے کا محبؔ ہم کو پتہ کچھ بھی نہیں
محب عارفی
No comments:
Post a Comment