پوچھتا ہوں گردشِ وقتِ تغیر زا سے میں
کیوں بدل پاتا نہیں امروز کو فردا سے میں
کیا تماشا ہے کہ خود مفہوم ہوں دنیا کا، اور
پوچھتا ہوں اپنے معنی بھی اسی دنیا سے میں
میں بھنور جس کا ہوں وہ دریا نظر آئے سراب
وہ حیا پیکر ہے مشتاقِ نظر، اس راز کو
پا گیا اس کی ادائے اشتیاق افزا سے میں
مجھ کو وہ سروِ خراماں خود نہیں آتا نظر
خود اگا لیتا ہوں کچھ اسکے نقوشِ پا سے میں
پا گیا ہوں کچھ رموزِ پیکرِ زیرِ نقاب
اس کے اندازِ نمودِ قامتِ رعنا سے میں
جاگتی آنکھوں کی دنیا دیکھ آیا ہوں تمام
کیا کروں گا جا کے باہر خواب کی دنیا سے میں
اب حقیقت مانتا جاتا ہوں اک اک وہم کو
ہو رہا ہوں وہم خود کس شانِ استغنا سے میں
وادئ لا ہے یہ منزل بھی کہ پہنچا ہوں جہاں
راہِ لا پر عمر بھر چل کر مقامِ لا سے میں
دوستوں کے قرضِ احسانات اتر سکتے نہیں
بس محبؔ، اب لاپتا ہو جاؤں آہستہ سے میں
محب عارفی
No comments:
Post a Comment