آ کر زبان پر جو سخن ہو کے رہ گیا
اک شعلہ تھا کہ اپنا کفن ہو کے رہ گیا
منزل کی فکر کیا مِرے سیلِ بہار کو
ٹھہرا جہاں، وہیں پہ چمن ہو کے رہ گیا
ویرانہ کھِل اٹھا مِری وحشت کے فیض سے
دل کیا لگا کہ ہوش مِرے ہو گئے درست
بے فکریوں کا نشہ ہرن ہو کے رہ گیا
حدِ نظر کے پار پہنچنے کے شوق میں
پائے نگاہ اپنی تھکن ہو کے رہ گیا
سمجھا معاملات کو دنیا کے بس وہی
اپنے خیال میں جو مگن ہو کے رہ گیا
آتے ہی یہ خیال کہ میں کیا ہوں، کیا نہیں
میں وہ کبھی نہ تھا، جو معاً ہو کے رہ گیا
اک عمر سے زمانہ تعاقب میں تھا، سو میں
آیا نظر کی زد میں، بدن ہو کے رہ گیا
جراحیوں سے عقل کی آخر مِرا وجود
پیشانئ عدم پہ شِکن ہو کے رہ گیا
رنگینیاں وہ سطح کے روغن کی ہیں محبؔ
غرقاب جن میں آج کا فن ہو کے رہ گیا
محب عارفی
No comments:
Post a Comment