چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم
شاید اسی لیے ہے گِلا کم بہت ہی کم
تھے دوسرے بھی تیری محبت کے آس پاس
دل کو مگر سکون ملا، کم، بہت ہی کم
جلتے سنا چراغ سے دامن ہزار بار
اب روح کانپتی ہے اجل سے قریب تر
اے ہم نصیب! ناز و ادا کم بہت ہی کم
یوں مت کہو، خزاںؔ کہ بہت دیر ہو گئی
ہیں آج کل وہ تم سے خفا کم، بہت ہی کم
محبوب خزاں
No comments:
Post a Comment