عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آپؐ کے آنے سے جینے کا سلیقہ تو ملا
خواہشِ قلب کو اظہار کا رستہ تو ملا
سر پہ دنیا کے کڑی دھوپ کی گرمی تھی بہت
اب ہمیشہ کے لیے آپﷺ کا سایہ تو ملا
کاٹے کھاتی تھی بہت تنگئ دامانِ بہار
اب میں خوش ہوں کہ مجھے چاہ کا صحرا تو ملا
مدتوں سے تھا جہاں جہل کے طوفاں میں اسیر
آدمیت کے سفینے کو کنارہ تو ملا
آپؐ سے قبل کسے علم تھا کیا شے ہے خلا
لامکاں تک کے لیے فکر کا جادہ تو ملا
آدمی کیوں نہ پیمبؐر پہ کرے ناز اختر
ذوقِ سجدہ تھا مگر اس کا طریقہ تو ملا
اختر ہاشمی
No comments:
Post a Comment