عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تمہارے در پہ جو میں باریاب ہو جاؤں
قسم خدا کی، شہاﷺ کامیاب ہو جاؤں
جو پاؤں بوسۂ پائے حضورﷺ کیا کہنا
میں ذرّہ شمس و قمر کا جواب ہو جاؤں
مِری حقیقت فانی بھی کچھ حقیقت ہے
مروں تو آج خیال اور خواب ہو جاؤں
جہاں کے قوس و قزح سے فریب کھائے کیوں
میں اپنے قلب و نظر کا حجاب ہو جاؤں
جہاں کی بگڑی اسی آستاں پہ بنتی ہے
میں کیوں نہ وقف درِ آنجناب ہو جاؤں
تمہاراﷺ نام لیا ہے تلاطمِ غم میں
میں اب تو پار رسالت مآبؐ ہو جاؤں
یہ میری دوری بدل جائے قرب سے اختر
اگر وہ چاہیں تو میں باریاب ہو جاؤں
اختر رضا قادری بریلوی
No comments:
Post a Comment