Monday, 12 September 2022

نہاں جس دل میں سرکار دو عالم کی محبت ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے

وہ خلوت خانۂ مولیٰ ہے وہ دل رشکِ جنت ہے

خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے

دو عالم میں تمہاری سلطنت ہے بادشاہت ہے

خدا نے یاد فرمائی قسم خاکِ کفِ پا کی

ہوا معلوم طیبہ کی دو عالم پر فضیلت ہے

سوائے میرے آقا کے سبھی کے رشتے ہیں فانی

وہ قسمت کا سکندر ہے جسے آقا سے نسبت ہے

یہی کہتی ہے رندوں سے نگاہِ مست ساقی کی

درِ میخانہ وا ہے مے کشوں کی عام دعوت ہے

غم شاہِ دنیٰ میں مرنے والے تیرا کیا کہنا

تجھے لَا یَحْزَنُوْا کی تیرے مولیٰ سے بشارت ہے

اٹھے شورِ مبارک باد ان سے جا ملا اختر

غم جاناں میں کس درجہ حسیں انجام فرقت ہے


اختر رضا قادری بریلوی

No comments:

Post a Comment