Tuesday, 13 September 2022

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے

زندگی ہے نبیؐ کی نبیﷺ کے لیے

نا سمجھ مرتے ہیں زندگی کے لیے

جینا مرنا ہے سب کچھ نبیؐ کے لیے

چاندنی چار دن ہے سبھی کے لیے

ہے صدا چاند عیدالنبیﷺ کے لیے

انت فیہم کے دامن میں مُنکر بھی ہیں

ہم رہے عشرتِ دائمی کے لیے

عیش کر لو یہاں منکرو! چار دن

مر کے ترسو گے اس زندگی کے لیے

داغِ عشق نبیﷺ لے چلو قبر میں

ہے چراغ لحد روشنی کے لیے

نقشِ پائے سگانِ نبیﷺ دیکھیے

یہ پتہ ہے بہت رہبری کے لیے

صلح کُلی نبیﷺ کا نہیں سُنیو

سُنی مُسلم ہے سچا نبیﷺ کے لیے

وہﷺ بُلاتے ہیں، کوئی یہ آواز دے

دم میں جا پہنچوں میں حاضری کے لیے

اے نسیمِ صبا! ان سے کہہ دے شہاﷺ

مضطرب ہے گدا حاضری کے لیے

جن کے دل میں ہے عشقِ نبیؐ کی چمک

وہ ترستے نہیں چاندنی کے لیے

جن کے دل میں ہیں جلوے تِرےؐ عشق کے

چشمۂ نور ہیں روشنی کے لیے

اختر قادری خُلد میں چل دیا

خُلد وا ہے ہر اک قادری کے لیے


اختر رضا قادری بریلوی

No comments:

Post a Comment