عارفانہ کلام حمدیہ و نعتیہ کلام
دل لرزتا ہے جو میری لغزشوں کی بات ہو
اُمید بندھتی ہے جو تیری رحمتوں کی بات ہو
پھر سُنا لینا کبھی واعظ!، وعیدیں اور عذاب
رب کے کرم رب کی عطا اور بخششوں کی بات ہو
جوش میں آ جائیں جب تیری رحمت کی صفات
ایسے لمحوں اور ایسی ساعتوں کی بات ہو
رحمۃ اللعالمینﷺ کی عظمتوں کی بات ہو
سیرت و صورت کے روشن پہلوؤں کی بات ہو
اُمت کی بخشش کے لیے اپنے خدا کے سامنے
نبئ رحمتﷺ کی دعاؤں رت جگوں کی بات ہو
معراج کی شب سفر پہ جب والئ امتﷺ چلے
ان وُسعتوں، ان رفعتوں اور قُربتوں کی بات ہو
صدیقؓ ہوں فاروقؓ ہوں، ہوں غنیؓ یا مرتضیٰؓ
نبئ اکرمﷺ کے مُقرب دوستوں کی بات ہو
یا الٰہی! ڈھانپ لے مظہری کے عیب تُو
لغزشوں کی بات نہ ہو رحمتوں کی بات ہو
ضیاء المظہری
No comments:
Post a Comment