عارفانہ کلام حمدیہ کلام
خیال اس بات کا دنیا میں ہر پل جا بجا رکھنا
سجا کر اپنے ہونٹوں پر صدا حمدِ خداﷻ رکھنا
گزرتے ہیں ہمارے دل سے ہو کر غم کے کچھ بادل
ہمیں اپنی پناہوں میں خداونداﷻ! سدا رکھنا
بھلا اپنا بھی سوچو تم کو اس سے روکتا ہے کون
مگر پیشِ نظر کچھ دوسروں کا بھی بھلا رکھنا
بسا رکھا ہے اپنے دل میں تم نے اک زمانے کو
ہمارے واسطے بھی دل کا دروازہ کُھلا رکھنا
کوئی بھی چیز نا ممکن نہیں اللّہﷻ کے آگے
مگر اُمید کے گُلشن کو ہر لمحہ ہرّا رکھنا
مجھے نِسبت ہے حاصل اس نبیؐ کی جو کہ رحمت ہے
مِری فطرت نہیں ہونٹوں پہ اپنے بد دعا رکھنا
منور! گر بھلا چاہو بدی کی سمت مت جانا
مسلسل نیکیوں سے اپنے دامن کو بھرا رکھنا
منور جہاں
No comments:
Post a Comment