مرہمی زخم سے رِس رِس کے لہو آتا ہے
تُو تو کہتا تھا تجھے کارِ رفُو آتا ہے
تیرا دیوانہ تِری یاد میں سب بھول گیا
آج یہ بھی نہ رہا یاد کہ تُو آتا ہے
تیرے بیمار کی حالت نہیں اچھی اب تو
کھانستے کھانستے بلغم میں لہو آتا ہے
مجھ سا بدو بھی تِرے دین پہ مر سکتا ہے
کلمہ آتا ہے جسے اور نہ وضو آتا ہے
طعن و دشنام کے ہیں دوست فقط نام کے ہیں
میرے معیار پہ پورا تو عدو آتا ہے
جب بھی کہتا ہوں کہ جائز نہیں ماتم جو بھی ہو
یاد مجھ کو علی اصغر کا گلُو آتا ہے
بھیج دوں بھیجنے کو چیزیں ہزاروں ہیں مگر
اس کی مرضی اسے خوش تحفۂ بو آتا ہے
اب مجھے دیکھتے ہی دوست اسے چھیڑتے ہیں
دیکھ ادھر دیکھ ترا غالیہ مُو آتا ہے
آمدِ مصرعِ تر عام نہیں ہے کاشر
نہیں آتا ہے کبھو اور کبھو آتا ہے
شوزیب کاشر
No comments:
Post a Comment