Saturday, 5 March 2022

اس کی طرف گیا تو ہر اک کام سے گیا

 اس کی طرف گیا تو ہر اک کام سے گیا

اس عشق کے سفر پہ میں آرام سے گیا

میں ریزہ ریزہ ہو گیا تیرے طواف میں

اپنے وجود سے گیا، احرام سے گیا

لفظوں کے بام پر کہیں تیرا جمال تھا

لیکن یہ کیا ہوا میں در و بام سے گیا

اس جھیل پر پری کی کہانی کا شور تھا

میں جھیل پر گیا تو تِرے نام سے گیا

ایسا ہوا کہ رات سڑک پر گذار دی

ایسا ہوا کبھی کہ میں گھر شام سے گیا

جادو تھا تیری یاد کا تیرے خیال کا

کانٹوں پہ میں گیا بڑے آرام سے گیا

پھر یوں ہوا کہ مجھ میں کہیں عشق مر گیا

اور میں فراق و وصل کے انجام سے گیا

اک دکھ تھا نامراد سا جو کھا گیا مجھے

میں اعتبار کر کے رہ عام سے گیا

اس عشق میں دلیل نہ کام آ سکی امان

تشکیک سے گیا کبھی اوہام سے گیا


امان اللہ خان

No comments:

Post a Comment