اس کی طرف گیا تو ہر اک کام سے گیا
اس عشق کے سفر پہ میں آرام سے گیا
میں ریزہ ریزہ ہو گیا تیرے طواف میں
اپنے وجود سے گیا، احرام سے گیا
لفظوں کے بام پر کہیں تیرا جمال تھا
لیکن یہ کیا ہوا میں در و بام سے گیا
اس جھیل پر پری کی کہانی کا شور تھا
میں جھیل پر گیا تو تِرے نام سے گیا
ایسا ہوا کہ رات سڑک پر گذار دی
ایسا ہوا کبھی کہ میں گھر شام سے گیا
جادو تھا تیری یاد کا تیرے خیال کا
کانٹوں پہ میں گیا بڑے آرام سے گیا
پھر یوں ہوا کہ مجھ میں کہیں عشق مر گیا
اور میں فراق و وصل کے انجام سے گیا
اک دکھ تھا نامراد سا جو کھا گیا مجھے
میں اعتبار کر کے رہ عام سے گیا
اس عشق میں دلیل نہ کام آ سکی امان
تشکیک سے گیا کبھی اوہام سے گیا
امان اللہ خان
No comments:
Post a Comment