Monday, 18 April 2022

تیری تصویر جو دل میں نہ اتاری جاتی

 تیری تصویر جو دل میں نہ اتاری جاتی

مجھ سے تنہا نہ شبِ ہجر گزاری جاتی

ایک اک کر کے چلے جاتے ہیں دشمن اور دوست

دیکھئے کب مِری باری ہے پکاری جاتی

مجھ کو درپیش ہے اک عمر سے صحرا کا سفر

توڑی پھر کیسے سرابوں سے یہ یاری جاتی

تھوڑی کوشش کبھی کرتے جو وفا کی تم بھی

یوں نہ بے کار محبت یہ ہماری جاتی

عشق ہوتا نہ اگر شعر و سخن سے ناصر

اس طرح آنکھوں میں یہ رات نہ ساری جاتی


ناصر سلیم

No comments:

Post a Comment