ہم بیچ سکے تو بیچیں گے
ہم خواب گلاب کی کیاری میں
کچھ ایسے پودے سینچیں گے
جو لوگوں کے گھر جاٸیں گے
تو ان میں تازگی لاٸیں گے
جو بام و در مہکاٸیں گے
جو گھر کے سبھی مکینوں کو
اک جنت یاد دلاٸیں گے
ہم روشن سی دوکاں اندر
وہ پودے رکھ کر بیچیں گے
اک وعدے کے چند سکوں میں
ناصر سلیم
No comments:
Post a Comment