Sunday, 20 February 2022

ہم بیچ سکے تو بیچیں گے ہم خواب

 ہم بیچ سکے تو بیچیں گے


ہم خواب گلاب کی کیاری میں

کچھ ایسے پودے سینچیں گے

جو لوگوں کے گھر جاٸیں گے

تو ان میں تازگی لاٸیں گے

جو بام و در مہکاٸیں گے

جو گھر کے سبھی مکینوں کو

اک جنت یاد دلاٸیں گے

ہم روشن سی دوکاں اندر

وہ پودے رکھ کر بیچیں گے

اک وعدے کے چند سکوں میں


ناصر سلیم 

No comments:

Post a Comment