سنگ دل دونوں ہیں برابر کے
تم بھی پتھر کے، ہم بھی پتھر کے
’’دل ہوا ہے چراغ مفلس کا‘‘
دام کچھ اور بڑھ گئے سر کے
اشک میرا ہے، اُن کی آنکھیں ہیں
بوند بدلے میں ہے سمندر کے
دیکھنے سے نشہ سا ہوتا ہے
لائے ہو کیا نگاہ میں بھر کے
مے ہوا ہے لہو غریبوں کا
لوگ پیتے ہیں جام بھر بھر کے
سر جھکا کر بھی وہ اکڑتا ہے
ناز کیا کیا نہیں ستمگر کے
ہاتھ پھیلے ہوئے تو ہیں لیکن
ہم سوالی نہیں ہیں در در کے
یہ نہ سمجھو یہ ایک میت ہے
آج ہم زندہ ہو گئے مر کے
کوہساروں سے حوصلے والے ناصر
زندہ رہتے نہیں ہیں ڈر ڈر کے
ناصر سلیم
No comments:
Post a Comment