Tuesday, 15 March 2022

سنگدل دونوں ہیں برابر کے

 سنگ دل دونوں ہیں برابر کے​

تم بھی پتھر کے، ہم بھی پتھر کے​

’’دل ہوا ہے چراغ مفلس کا‘‘​

دام کچھ اور بڑھ گئے سر کے​

اشک میرا ہے، اُن کی آنکھیں ہیں​

بوند بدلے میں ہے سمندر کے

​دیکھنے سے نشہ سا ہوتا ہے​

لائے ہو کیا نگاہ میں بھر کے​

مے ہوا ہے لہو غریبوں کا​

لوگ پیتے ہیں جام بھر بھر کے​

سر جھکا کر بھی وہ اکڑتا ہے​

ناز کیا کیا نہیں ستمگر کے​

ہاتھ پھیلے ہوئے تو ہیں لیکن​

ہم سوالی نہیں ہیں در در کے​

یہ نہ سمجھو یہ ایک میت ہے​

آج ہم زندہ ہو گئے مر کے​

کوہساروں سے حوصلے والے​ ناصر

زندہ رہتے نہیں ہیں ڈر ڈر کے​

ناصر سلیم

No comments:

Post a Comment