Tuesday, 15 March 2022

نہ واپسی ہے جہاں سے وہاں ہیں سب کے سب

 نہ واپسی ہے جہاں سے وہاں ہیں سب کے سب

زمیں پہ رہ کے زمیں پر کہاں ہیں سب کے سب

کوئی بھی اب تو کسی کے مخالفت میں نہیں

اب ایک دوسرے کے راز داں ہیں سب کے سب

قدم قدم پہ اندھیرے سوال کرتے ہیں

یہ کیسے نور کا طرز بیاں ہیں سب کے سب

وہ بولتے ہیں مگر ربط رکھ نہیں پاتے

زبان رکھتے ہے پر بے زباں ہیں سب کے سب

سوئی کے گرنے کی آہٹ سے گونج اٹھتے ہیں

گرفت‌ خوف میں خالی مکاں ہیں سب کے سب

جھکائے سر جو کھڑے ہیں خلاف ظلموں کے

لگا ہے ایسا دوج بے زباں ہیں سب کے سب


دوجیندر دوج 

دوجیندر دوِّج 

No comments:

Post a Comment