کبھی تم دیر مت کرنا
میں روٹھوں تو منانے میں
مجھے واپس بلانے میں
چراغِ دل جلانے میں
اندھیروں کو مٹانے میں
دیارِ دل بسانے میں
کہ میرے پاس آنے میں
کبھی تم دیر مت کرنا
یقیں کی داستاں تم ہو
کہ مثلِ کہکشاں تم ہو
میں دل ہوں، تو زباں تم ہو
مرے اندر نہاں تم ہو
مرے دل ہو کہ جاں تم ہو
کہ میرے رازداں تم ہو
مگر اندھیر مت کرنا
کبھی تم دیر مت کر
مری قسمت تمہیں تو ہو
مری الفت تمہیں تو ہو
مری چاہت تمہیں تو ہو
مری عزت تمہیں تو ہو
مری طاقت تمہیں تو ہو
مری ہمت تمہیں تو ہو
مجھے تم زیر مت کرنا
کبھی تم دیر مت کرنا
محبت کے گلستاں میں
کہ اس شہرِ نگاراں میں
سجے دل کے شبستاں میں
خزاں میں اور بہاراں میں
کہ کوئے عہد و پیماں میں
محبت کے یہ میداں میں
مجھے تم ڈھیر مت کرنا
کبھی تم دیر مت کرنا
کبھی تم دیر مت کرنا
روبینہ میر
No comments:
Post a Comment