کہیں سائے تھے کچھ پھیلے ہوئے سے
کہیں سورج بدن مَیلے ہوئے سے
کھڑے تھے دھوپ کے سائے میں حیراں
بدن ہر دل کے تھے سہمے ہوئے سے
جو کہتا تھا وہ ہو جاتا تھا اکثر
اگرچہ بال تھے بکھرے ہوئے سے
معطّر ہو گئیں ساری فضائیں
ہمارے زخم تھے مہکے ہوئے سے
ضروری، گفتگو، اب ہو گئی تھی
دِلوں کے رَبط تھے ٹوٹے ہوئے سے
تسلی آسماں کی کیسے ہوتی
زمیں کے سانس تھے اُکھڑے ہوئے سے
بھنور میں دیدہ و دل پھنس گئے تھے
تو کچھ پتوار تھے بکھرے ہوئے سے
جو ہم چلنے لگے تو یاد آیا
ہمارے پیر تھے ٹوٹے ہوئے سے
احمد منیب
No comments:
Post a Comment