پرانے صفحے
وہ ڈائری کے پرانے صفحوں سے
گزرے لمحوں کی بیتی باتیں سنا رہی تھی
حوالے دے کر بتا رہی تھی
وہ اپنی چاہت جتا رہی تھی
وہ کہہ رہی تھی کہ اس کی یادوں کا
میں ہی مرکز رہا ہوں ہر دم
مِرے لیے ہی رہی ہے
اس کے لبوں پہ اکثر وفا کی سرگم
اداس راتوں میں اس کی آنکھوں نے
میری خاطر بہائی شبنم
میں سوچتا تھا
میں اس کی ہر بات مان جاؤں
یہ میری فطرت رہی ہے
میں لڑکیوں کی ہر بات مانتا ہوں
یہ دل نے پھر مشورہ دیا تھا
سب اپنے ماضی کے غم بھلا کر
بکھرتے نغموں کو نوچ لوں میں
ترستے ہاتھوں سے ساری راحت دبوچ لوں میں
عجیب باتوں، لطیف راتوں
کے سلسلوں کو بھی سوچ لوں میں
مگر اچانک، قریب لیٹا ہوا اس کا چھوٹا بچہ
بلک کے رویا تو خواب میرے
چٹخ کے ٹوٹے
میرے خیالوں کے سب غبارے
کھسک کے چھوٹے
میں اب اکیلا دبک کے بیٹھا
گئے دنوں کے پرانے صفحے پلٹ رہا ہوں
اظہر جاوید
No comments:
Post a Comment