پیام درد دل دل سے نکل کر
چلا آتا ہے ہر آنسو میں ڈھل کر
بلا کی شوخیاں رفتار میں ہیں
قیامت ڈھا رہا ہے کوئی چل کر
تجلی سے ہوئے سرشار موسیٰ
تجھے کیا ملا گیا اے طور جل کر
کہاں میں اور کہاں یہ عرصۂ حشر
بڑی دور آ گیا گھر سے نکل کر
سرِ شام تھا ان کا آنے کا وعدہ
اجلا ہو چکا ہے رات ڈھل کر
لیے اک درد پہلو میں مسلسل
شب غم کاٹ دی کروٹ بدل کر
میرے کپڑوں میں کچھ کچھ آ گئی ہے
شمیم ناز آنچل سے نکل کر
چھڑانا مجھ سے ہے دست حنائی
عجب انداز سے آنکھیں بدل کر
سوئے دشت اک نہ اک دن ہے نکلنا
کسی کی خاکِ پا چہرے پہ مل کر
حقیقی عشق ہو گا یہ ناصر اب
ماضی کی منازل سے نکل کر
ناصر سلیم
No comments:
Post a Comment