Friday, 15 April 2022

پیام درد دل دل سے نکل کر

 پیام درد دل دل سے نکل کر

چلا آتا ہے ہر آنسو میں ڈھل کر

بلا کی شوخیاں رفتار میں ہیں

قیامت ڈھا رہا ہے کوئی چل کر

تجلی سے ہوئے سرشار موسیٰ

تجھے کیا ملا گیا اے طور جل کر

کہاں میں اور کہاں یہ عرصۂ حشر

بڑی دور آ گیا گھر سے نکل کر

سرِ شام تھا ان کا آنے کا وعدہ

اجلا ہو چکا ہے رات ڈھل کر

لیے اک درد پہلو میں مسلسل

شب غم کاٹ دی کروٹ بدل کر

میرے کپڑوں میں کچھ کچھ آ گئی ہے

شمیم ناز آنچل سے نکل کر

چھڑانا مجھ سے ہے دست حنائی

عجب انداز سے آنکھیں بدل کر

سوئے دشت اک نہ اک دن ہے نکلنا

کسی کی خاکِ پا چہرے پہ مل کر

حقیقی عشق ہو گا یہ ناصر اب

ماضی کی منازل سے نکل کر


ناصر سلیم 

No comments:

Post a Comment