Wednesday, 12 May 2021

تخم نفرت بو رہا ہے آدمی

 تخمِ نفرت بو رہا ہے آدمی

آدمیت کھو رہا ہے آدمی

زندگی کا نام ہے جہدِ مدام

سو رہا ہے سو رہا ہے آدمی

آگہی ہے شرط جینے کے لیے

پھر بھی غافل ہو رہا ہے آدمی

چل سکا نہ راہ پر اسلاف کی

نقشِ پا اب کھو رہا ہے آدمی

کاشفِ ذاتِ خدا تھا سر بسر

اب نہیں ہے جو رہا ہے آدمی

اپنے ہی اعمال پر پچھتا کے اب

رو رہا ہے، رو رہا ہے آدمی

قند گُفتاری اے محسن اب کہاں

زہر آسا ہو رہا ہے آدمی


داؤد محسن

No comments:

Post a Comment