Wednesday, 12 May 2021

گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے

گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے

لوگ ہم کو رسن و دار تلک لے آئے

ہم کو ان پر ہی بھروسہ تھا جو اکثر ہم کو

دے کے پھولوں کی قسم خار تلک لے آئے

دل کے امراض یہ دیکھا ہے کہ درماں کیلئے

ایک بیمار کو بیمار تلک لے آئے

روک پائی نہ زباں بھی مِری الفاظ مِرے

ولولے قوت اظہار تلک لے آئے

آسماں ہم نے بنائے تھے جو اپنی خاطر

ہم جہاں کو اسی معیار تلک لے آئے

رہ گیا مل کے سمندر کف افسوس اور ہم

ناؤ اس پار سے اس پار تلک لے آئے

تھا ہمیں شوق اسیری نہ سمجھنا یہ نہال

لو کے جھونکے در و دیوار تلک لے آئے


نہال انصاری

No comments:

Post a Comment