Wednesday, 19 May 2021

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

 کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

قیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے

منائیں انہیں وصل میں کس طرح ہم

یہ روٹھے کا کوئی منانا نہیں ہے

ہے منظور انہیں امتحاں شوق دل کا

نزاکت کا خالی بہانہ نہیں ہے

وفا پر دغا صلح میں دشمنی ہے

بھلائی کا ہرگز زمانہ نہیں ہے

شب غم بھی ہو جائے گی اک دن آخر

کبھی اک روش پر زمانا نہیں ہے

ہے کوئے بتاں بس گھر اس کا ہی کیفی

زمانے میں جس کو ٹھکانا نہیں ہے


کیفی دہلوی

دتا تریہ کیفی

No comments:

Post a Comment