Wednesday, 19 May 2021

مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھے

 مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھے

وہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھے

میرے پروں میں میری زمیں باندھنے کے بعد

وہ اپنی کہکشاں میں بلاتا رہا مجھے

ہر رات آنسوؤں سے بھگویا مرا بدن

ہر صبح دھوپ دے کے سکھاتا رہا مجھے

سگریٹ پیتا میں بھی لبوں سے لگا رہا

وہ بھی دھواں بنا کے اڑاتا رہا مجھے

اس کو تھی دھن کہ مجھ کو بنائے گا وہ گلاب

کانٹوں کے بیچ روز سجاتا رہا مجھے

پانی کی طرح میں بھی تھا مفت اس کے ہاتھ میں

اور وہ بھی بے دریغ بہاتا رہا مجھے

اس کو ہی میں نے ڈس لیا اک روز آخرش

جو اپنی آستیں میں چھپاتا رہا مجھے

اس کے نمک سے تھا مرا پیکر بنا ہوا

بارش سے اس لیے وہ بچاتا رہا مجھے


احتشام صدیقی

No comments:

Post a Comment