Friday, 14 May 2021

الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

 الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

تھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلے

تیغ و سناں کو رکھ دو آنکھیں لڑاؤ ہم سے

اچھی ہے وہ لڑائی جس میں کہ میل نکلے

دیکھا جو نور اس کا تو کھل گئی ہیں آنکھیں

دنیا و دیں کے جھگڑے بچوں کا کھیل نکلے

امید نیکیوں کی رکھو نہ تم بروں سے

ممکن نہیں کھلی سے ہرگز جو تیل نکلے

کب کوہ کن سے اٹھا کوہ گراں سے الفت

ان سختیوں کو کیفی کچھ ہم ہی جھیل نکلے


کیفی دہلوی

دتا تریہ کیفی

No comments:

Post a Comment