Friday, 14 May 2021

فضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقی

 فضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقی

پھر اپنے رنگ پہ دور شباب ہے ساقی

یہ تلخ یادیں کم از کم بھلا تو دیتی ہے

شراب کچھ بھی ہو آخر شراب ہے ساقی

جو اپنی ہستی کی مستی مٹا کے آتا ہے

تِرے حضور وہی باریاب ہے ساقی

غم فراق، غم زندگی، غم دنیا

شراب سارے غموں کا جواب ہے ساقی

تِری نگاہوں سے میخانے جام بھرتے ہیں

تِری نگاہوں کا کوئی جواب ہے ساقی

بقول چرخ یہاں مستیاں ابھرتی ہیں

یہ مے کدہ تو جہان شباب ہے ساقی


چرخ چنیوٹی

No comments:

Post a Comment