قسمت سنوارنے کے سبھی گر سکھائیں گے
شبیرؑ کا مزاج تمہیں حُر بتائیں گے
فرشِ عزا کی خاک لگا لو جبین پر
ان کنکروں کو شاہِ نجف دُر بنائیں گے
بیدار ہو گی تیغِ علیؑ پھر نیام میں
پہلے حُسینؑ اپنے بہادر سُلائیں گے
دو خشک ہونٹ ایک تبسم کے نور سے
کرب و بلا میں طورِ تحیر سجائیں گے
دیکھ آئے ہیں حسین کے خیمے میں جون کو
یوسف بھی آج یومِ تشکُر منائیں گے
ماضی کے داغ دھونے کی خاطر تمہارے پاس
آقا! حُر ایسے لوگ تواتر سے آئیں گے
جب تک دکھائی دیتا ہے غازی حسینؑ کو
چہرے پہ بے بسی کا تاثر نہ لائیں گے
دو زانو خود کو پائیں گے شہ کی جناب میں
جب دل میں آپ شمعِ تصوُر جلائیں گے
عدنان محسن
No comments:
Post a Comment