میں تیرے درد کی دوا کب تھا
اب جو بچھڑا ہے وہ مِلا کب تھا
کب دُعا کی تھی وصلِ دائم کی
ہِجر سے دل ابھی بھرا کب تھا
موت کی آرزو مِٹی کب تھی
زندگی اپنا مسئلہ کب تھا
بُجھ گیا تھا تو پِھر جلا لیتے
صُبح تک میرا سلسلہ کب تھا
ساعتِ شمس، لمحۂ مہتاب
ایک سے دوسرا جُدا کب تھا
وہ مُلاقات تھی کہ حشر کی شام
یِوں ازل سے ابد مِلا کب تھا
مُجھ کو ہی فرصتِ گناہ نہ تھی
ورنہ وہ یار پارسا کب تھا
مبارک حیدر
No comments:
Post a Comment