Tuesday, 11 October 2016

چپ چاپ دکھ سہو نہ شکایت کرو اسے

چپ چاپ دکھ سہو نہ شکایت کرو اسے
کس نے تمہیں کہا تھا محبت کرو اسے
یہ کیا کہ ہر کسی سے ہیں اس کے ہی تذکرے
رسوا یوں سب کے سامنے اب مت کرو اسے 
دنیا تو کہہ رہی ہے محبت فریب ہے
اب جا کے زخمِ دل کی وضاحت کرو اسے
مر ہی نہ جائے وہ کہیں تیرے فراق میں
قربت کا کوئی لمحہ عنایت کرو اسے
دل کی شکستگی کا سبب وہ نہیں صفیؔ
اپنی خطا پہ تم نہ ملامت کرو اسے

صغیر صفی

No comments:

Post a Comment