سود سارا لے گیا مجھ کو خسارہ دے گیا
وہ ستمگر آج پھر دھوکا دوبارہ دے گیا
وقت رخصت وہ کسی کا مڑ کے پیچھے دیکھنا
ذہن و دل میں نقش ہے ایسا نظارہ دے گیا
غرق ہوتے ہوتے بھی اس کو ہماری فکر تھی
ڈوبنے والا کنارے کا اشارہ دے گیا
جاتے جاتے دے گیا مجھ کو وہ سارے خط مرے
عمر بھر جینے کو یادوں کا سہارا دے گیا
کر کے وہ ترکِ تعلق ہو گیا رخصت مگر
بے وفائی کا مجھے الزام سارا دے گیا
نامہ بر کو دیکھ کر امید جاگی تھی، مگر
ہم کو ہی واپس ستمگر خط ہمارا دے گیا
آج مظہر! کا ستارہ ہے بلندی پر میاں
وہ مجھے خلوت میں ملنے کا اشارہ دے گیا
مظہر قریشی
No comments:
Post a Comment