Tuesday, 8 March 2022

تمام پرسے سنبھال رکھے ہیں تعزیانہ پڑا رہے گا

 تمام پُرسے سنبھال رکھے ہیں تعزیانہ پڑا رہے گا

کہ آنکھ روئے گی تازہ غم کو مگر پرانا پڑا رہے گا

دیارِ ہجرت سے لوٹ آئیں نہ جانے کب اس چمن کی چِڑیاں

ہمارے دیوار و در پہ رکھا یہ آب و دانہ پڑا رہے گا

ہر ایک دھڑکن ہمارے دل کی تمہاری قربت میں خرچ ہوگی

تمہارے آنے پہ قفل کھولیں گے سب خزانہ پڑا رہے گا

تمہاری بستی میں عشق زادے کی لوگ برسوں مثال دیں گے

وہ نہر والے کا، دشت والے کا، سب فسانہ پڑا رہے گا

کبھی جو فرصت ملے تو ماں کے لرزتے ہاتھوں کو چوم لینا

کہ روز و شب پھر تمہارے پیروں میں اک زمانہ پڑا رہے گا


عاطف جاوید عاطف

No comments:

Post a Comment