Sunday, 9 January 2022

جس طرف دیکھیے طوفان نظر آنے لگے

 جس طرف دیکھیے طوفان نظر آنے لگے

شہر کے شہر ہی ویران نظر آنے لگے

جب سے شیشوں نے کیا ان کے حوالے خود کو

تب سے پتھر بھی پریشان نظر آنے لگے

مختصر ہم نے کیا خود کو ذرا سا خود میں

کس قدر راستے آسان نظر آنے لگے

مفلسی میں ہوئی پہچان مجھے اپنوں کی

تھا گماں جن پہ وہ انجان نظر آنے لگے

اک قدم ہی تو بڑھایا ہے ہماری جانب

آپ کو فائدے نقصان نظر آنے لگے

دیکھ کر میری طلب میرا جنون منزل

راستے کیسے پریشان نظر آنے لگے


جیوتی آزاد

No comments:

Post a Comment