Sunday, 9 January 2022

پیش آنے لگے ہیں نفرت سے

 پیش آنے لگے ہیں نفرت سے

بھر گیا ان کا دل محبت سے

فائدہ یہ ہے تیری قربت سے

خوب کٹتا ہے وقت راحت سے

کام بنتے نہیں ہیں نفرت سے

کام چلتے ہیں سب محبت سے

ان کی خاطر مجھے جہاں والے

دیکھتے ہیں بڑی حقارت سے

زندگی میری اک مصیبت تھی

مل گئے آپ مجھ کو قسمت سے

ساری دنیا حریف ہے میری

اک ذرا سی تری عنایت سے

کیا خبر تھی کہ وقت پڑتے ہی

ہاتھ اٹھا لیں گے وہ محبت سے

وہ شب وصل بھی تو پہلو میں

باز آتے نہیں شرارت سے

دل کو چسکا پڑا ہے کچھ ایسا

باز آتا نہیں محبت سے

کامرانی کے واسطے افضل

کام لینا پڑے گا ہمت سے


افضل پشاوری

افضل پیشاوری

No comments:

Post a Comment