تمہاری آنکھوں پہ گیت لکھنا
تم اتنی دلکش حسین ہو کہ
شہر کے کتنے عظیم شاعر
تمہاری آنکھوں، تمہارے ہونٹوں
تمہارے گیسو، تمہارے عارض
تمہارے آنچل، تمہارے لہجے
پہ گیت لکھنے کی خواہشوں میں بھٹک رہے ہیں
کسی بھی شاعر کی شاعری میں
کسی کی آنکھوں کا تذکرہ بھی
تُو ایک اعزازِ منفرد ہے
میں مانتا ہوں
مگر شہر کا کوئی بھی شاعر
تمہاری آنکھوں کے پاس تو کیا
تمہارے سائے تلک رسائی کے خواب دیکھے
وہ گیت لکھے تو کیسے لکھے
میں ساری دنیا کا منفرد باکمال شاعر
مجھے خدا نے
شہر کے سارے ہی شاعروں سے جدا کیا ہے
تمہارے دل تک رسائی دی ہے
تمہاری آنکھوں، تمہارے ہونٹوں
تمہارے گیسو، تمہارے عارض
تمہارے آنچل، تمہارے لہجے
پہ گیت لکھنے کا جو ہنر ہے
میرے خدا نے
میرے قلم کو عطا کیا ہے
شہر کے سارے ہی شاعروں سے
مجھے خدا نے جدا کیا ہے
منیر فراز
No comments:
Post a Comment