Wednesday, 15 December 2021

ہم نے دل میں رکھی تھی قربتوں کی گنجائش

 ہم نے دل میں رکھی تھی قربتوں کی گنجائش

اس نے خود نکالی ہے رنجشوں کی گنجائش

لوگ ہیں خفا ہم سے، سچ ہے ہو نہیں سکتی

پتھروں کی بستی میں آئینوں کی گنجائش

شعلہ شعلہ موسم ہے، پھول پھول زخمی ہے

اب نہیں ہے شاخوں پر تتلیوں کی گنجائش

میری سادہ لوحی پر ہنس رہی ہے یہ دنیا

نفرتوں میں رکھتا ہوں چاہتوں کی گنجائش

💧آتشِ غمِ دل میں جذب ہو گئے 💧آنسو

اب نہیں ہے آنکھوں میں پانیوں کی گنجائش

جب سے چھپ گیا سورج بادلوں کے سائے میں

چلئے کچھ نکل آئی جگنوؤں کی گنجائش

خود غرض امیری کے جال ہر سُو پھیلے ہیں

اے ضمیر! ہو کیسے مفلسوں کی گنجائش


ضمیر یوسف

No comments:

Post a Comment