ہم نے دل میں رکھی تھی قربتوں کی گنجائش
اس نے خود نکالی ہے رنجشوں کی گنجائش
لوگ ہیں خفا ہم سے، سچ ہے ہو نہیں سکتی
پتھروں کی بستی میں آئینوں کی گنجائش
شعلہ شعلہ موسم ہے، پھول پھول زخمی ہے
اب نہیں ہے شاخوں پر تتلیوں کی گنجائش
میری سادہ لوحی پر ہنس رہی ہے یہ دنیا
نفرتوں میں رکھتا ہوں چاہتوں کی گنجائش
💧آتشِ غمِ دل میں جذب ہو گئے 💧آنسو
اب نہیں ہے آنکھوں میں پانیوں کی گنجائش
جب سے چھپ گیا سورج بادلوں کے سائے میں
چلئے کچھ نکل آئی جگنوؤں کی گنجائش
خود غرض امیری کے جال ہر سُو پھیلے ہیں
اے ضمیر! ہو کیسے مفلسوں کی گنجائش
ضمیر یوسف
No comments:
Post a Comment