Wednesday, 15 December 2021

اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں

 اب تو ہجومِ یاس کی کچھ انتہا نہیں

یعنی مجھے اُمید کا بھی آسرا نہیں

کب ہم سے بے دلوں پہ نگاہِ جفا نہیں

ہم خوب جانتے ہیں کہ تُو بے وفا نہیں

اللہ رے بے نیازیٔ آسودگان خواب

اس قُرب پر کسی سے کوئی بولتا نہیں

آتی ہے ذرے ذرے سے آواز بازگشت

پھر بھی یہ کہہ رہا ہے ابھی کچھ کہا نہیں

وہ خود بھی دفن ہو گئی اہلِ وفا کے ساتھ

بے کار ڈھونڈھتا ہے جہاں میں وفا نہیں

صدقے تِرے کرم کے نہ دے زحمتِ سوال

کشکول ہے فقیر کا دستِ دعا نہیں

وہ دید ہائے شوق کہ دیکھیں تِرا جمال

کس کا بہشت کچھ بھی انہیں دیکھتا نہیں

کیوں اس کے چومتے ہی نہ معراج ہو نصیب

بیخود! خدا کا ہاتھ ہے دستِ دعا نہیں


بیخود موہانی

No comments:

Post a Comment