Tuesday, 5 April 2022

وہی چراغ تو بے موت مرتے رہتے ہیں

 وہی چراغ تو بے موت مرتے رہتے ہیں

جو ساز باز ہواؤں سے کرتے رہتے ہیں

صعوبتوں سے جو ہنس کر گزرتے رہتے ہیں

بلندیوں کو وہی زیر کرتے رہتے ہیں

ہمیشہ جن پہ ہم احسان کرتے رہتے ہیں

انہی کے تیر بھی دل میں اترتے رہتے ہیں

شکن جناب کے ماتھے پہ ہے تو حیرت کیا

ہمارے سچ سے تو آئینے ڈرتے رہتے ہیں

ہیں کامیاب وہی لوگ جو کہ خوابوں میں

نئے نئے سے حسیں رنگ بھرتے رہتے ہیں

وہ جانتے ہی نہیں جذبۂ لطیف ہے کیا

جو تتلیوں کے پروں کو کترتے رہتے ہیں

ہمارا عزم ہے چٹان کی طرح مضبوط

ہزاروں وقت کے طوفاں گزرتے رہتے ہیں

تمام رات کوئی یاد آتا رہتا ہے

ہزاروں اشک کے موتی بکھرتے رہتے ہیں

ہمارے چہرے س شادابیاں نہیں جاتیں

یہ اور بات کہ ہر پل بکھرتے رہتے ہیں

ضمیر! آئینہ خانہ ہے زندگی اپنی

یہاں پہ سینکڑوں آ کر سنورتے رہتے ہیں


ضمیر یوسف

No comments:

Post a Comment