وہی چراغ تو بے موت مرتے رہتے ہیں
جو ساز باز ہواؤں سے کرتے رہتے ہیں
صعوبتوں سے جو ہنس کر گزرتے رہتے ہیں
بلندیوں کو وہی زیر کرتے رہتے ہیں
ہمیشہ جن پہ ہم احسان کرتے رہتے ہیں
انہی کے تیر بھی دل میں اترتے رہتے ہیں
شکن جناب کے ماتھے پہ ہے تو حیرت کیا
ہمارے سچ سے تو آئینے ڈرتے رہتے ہیں
ہیں کامیاب وہی لوگ جو کہ خوابوں میں
نئے نئے سے حسیں رنگ بھرتے رہتے ہیں
وہ جانتے ہی نہیں جذبۂ لطیف ہے کیا
جو تتلیوں کے پروں کو کترتے رہتے ہیں
ہمارا عزم ہے چٹان کی طرح مضبوط
ہزاروں وقت کے طوفاں گزرتے رہتے ہیں
تمام رات کوئی یاد آتا رہتا ہے
ہزاروں اشک کے موتی بکھرتے رہتے ہیں
ہمارے چہرے س شادابیاں نہیں جاتیں
یہ اور بات کہ ہر پل بکھرتے رہتے ہیں
ضمیر! آئینہ خانہ ہے زندگی اپنی
یہاں پہ سینکڑوں آ کر سنورتے رہتے ہیں
ضمیر یوسف
No comments:
Post a Comment