دنیا ہے کہ دیوار اٹھانے پہ تُلی ہے
ہمت مِری منزل کو بھی پانے پہ تلی ہے
شہ زور بہت ہے یہ نئے عہد کی آندھی
تہذیب کی شمعوں کو بجھانے پہ تلی ہے
اے مصلحتِ دستِ ہنر! میں تِرے صدقے
کم ظرف کو فن کار بنانے پہ تلی ہے
دیوانوں کا اک قافلہ گزرا ہے اِدھر سے
"صحرا کی زمیں پھول کھلانے پہ تلی ہے "
تا حدِ نظر ریت ہے، پھر بھی مِری ہستی
پلکوں پہ نیا خواب سجانے پہ تلی ہے
چنگاری ضمیر آج جو اُڑتی ہے فضا میں
ہر شاخِ محبت کو جلانے پہ تلی ہے
ضمیر یوسف
No comments:
Post a Comment