جس طرح ملتا تھا ہم سے اس طرح ملتا نہیں
وہ جو گزرا ہے اِدھر سے اس طرف دیکھا نہیں
جس کی خاطر ہم نے چھوڑا تھا لڑکپن کا سفر
مڑ کے دیکھا غور سے جب وہ بھی اپنا تھا نہیں
سازِ ہستی کی صدا ہے غور سے سن لیں میاں
ہوش والوں کی نظر میں یہ کہیں ملتا نہیں
آپ نے تو مجھ سے پوچھا کیا ہوا ہے تیرا دل
دل کے اندر آج تک تُو نے کبھی جھانکا نہیں
بے گلہ سا ہو گیا ہوں آج تیرے سامنے
تجھ کو لگتا ہو گا شاید ہم سے گلہ تھا نہیں
دیکھنا ہے کس کی جانب رُخ ہوا موڑے گی اب
دیکھنا ہے کس کا آخر تک دیا بُجھتا نہیں
بات ہم نے آج کر دی مے کشی کی شیخ سے
جام کی جب بات آئی پھر تو کچھ دیکھا نہیں
آج ساگر سے ہوا ہے وہ جدا پر اس طرح
دل گلی میں ہم نے ڈھونڈا پر وہاں وہ تھا نہیں
ساگر سلام
No comments:
Post a Comment