Wednesday, 9 March 2022

جس طرح ملتا تھا ہم سے اس طرح ملتا نہیں

 جس طرح ملتا تھا ہم سے اس طرح ملتا نہیں

وہ جو گزرا ہے اِدھر سے اس طرف دیکھا نہیں

جس کی خاطر ہم نے چھوڑا تھا لڑکپن کا سفر

مڑ کے دیکھا غور سے جب وہ بھی اپنا تھا نہیں

سازِ ہستی کی صدا ہے غور سے سن لیں میاں

ہوش والوں کی نظر میں یہ کہیں ملتا نہیں

آپ نے تو مجھ سے پوچھا کیا ہوا ہے تیرا دل

دل کے اندر آج تک تُو نے کبھی جھانکا نہیں

بے گلہ سا ہو گیا ہوں آج تیرے سامنے

تجھ کو لگتا ہو گا شاید ہم سے گلہ تھا نہیں

دیکھنا ہے کس کی جانب رُخ ہوا موڑے گی اب

دیکھنا ہے کس کا آخر تک دیا بُجھتا نہیں

بات ہم نے آج کر دی مے کشی کی شیخ سے

جام کی جب بات آئی پھر تو کچھ دیکھا نہیں

آج ساگر سے ہوا ہے وہ جدا پر اس طرح

دل گلی میں ہم نے ڈھونڈا پر وہاں وہ تھا نہیں


ساگر سلام

No comments:

Post a Comment