Wednesday, 9 March 2022

اس شہر میں حسین تھے جتنے بڑے بڑے

اس شہر میں حسین تھے جتنے بڑے بڑے

پتھر ہوئے ہیں راہ میں اس کی کھڑے کھڑے

منہ لگ نہ ہم چراغوں کے اے سر پھری ہوا

دیکھے ہیں ہم نے تجھ سے بھی دشمن بڑے بڑے

جو لوگ ایک دوجے پہ کرتے تھے جاں نثار

کس کی نظر لگی ہے کہ سب ہیں لڑے لڑے

کب میں نے یہ کہا ہے کہ بیٹھو مرے قریب

بس دیکھ جاؤ دور سے مجھ کو کھڑے کھڑے

اپنی نظر میں شعر وہ زیور سے کم نہیں

جس میں ہوں حرف جیسے نگینے جڑے جڑے

ٹھوکر لگا کے ان کا مقدر سنوار دو

بےکار ہو نہ جائیں یہ پتھر پڑے پڑے

تم میری موت دیکھ کے رونے لگے جمیلؔ

گزرے ہیں مجھ پہ اس سے بھی لمحے کڑے کڑے


صادق جمیل

No comments:

Post a Comment