Sunday, 3 January 2021

مسکان لبوں پر آنکھوں میں تاروں کا سجانا مشکل ہے

 مسکان لبوں پر آنکھوں میں تاروں کا سجانا مشکل ہے

دل توڑنا ہے آساں لیکن روتے کو ہنسانا مشکل ہے

ہے کانچ صفت دل سینے میں جب ٹوٹتا ہے پھر جڑتا نہیں

جس چیز سے دل اٹھ جاتا ہے پھر اس سے لگانا مشکل ہے

اے بلبل دل یوں غم پی کر مت چہک کہ اب لب کو سی لے

سب ساز بریدہ حال ہوئے اب راگ پرانا مشکل ہے

اے خیر طلب افراد! چلو اپنی جانیں قربان کریں

بے خون بہائے دنیا کو غفلت سے جگانا مشکل ہے

تم کاغذی کشتی میں دریا کو پار کرو تب سمجھو گے

اشکوں سے لبالب آنکھوں میں کیوں خواب سجانا مشکل ہے

مانا کہ مقدر ہے فرقت لازم ہے جدائی بھی، لیکن

ان سرد اندھیری راتوں میں دل کو سمجھانا مشکل ہے


انیس ابر

No comments:

Post a Comment