Sunday, 3 January 2021

لگانا دل کا بہانا ہے دل لگی کیا ہے

 لگانا دل کا بہانا ہے، دل لگی کیا ہے

اگر یہ عشق نہیں ہے تو عاشقی کیا ہے

گزشتہ سال جو گزری تھی زندگی تھی یہی

بدل رہا ہے نیا سال تو خوشی کیا ہے

وہی قفس ہے وہی قید اور وہی زنجیر

زمانے کچھ تو بتا مجھ سے دشمنی کیا ہے

کسی فراق میں راتیں گزارنے والو

بتاؤ سحر ہے کیا دن کی روشنی کیا ہے

یہ سرد مہری یہ غفلت یہ برہمی لہجہ

تمہارے دل میں سلگتی یہ آگ سی کیا ہے

کسی بھی رخ سے وہ لگتا نہیں ہے خوش مجھ سے

اگر ادا ہے یہ اس کی تو بے رخی کیا ہے

دکھائ دیتا نہیں اس کو میں نہ میرا عشق

"دُکھائے دل جو کسی کا وہ آدمی کیا ہے"

"جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا"

چکن کڑاہی میں اتنی بساند سی کیا ہے

یونہی تو دل نہیں مائل ہے مسکرانے پر

جو ہو رہی ہے رگ و پہ میں گدگدی کیا ہے

وہ بات بات پے کرتا ہے اپنا موڈ خراب

یہ دوستی ہے تو بتلاؤ دشمنی کیا ہے؟

وہ اچھے اچھوں کو لاتا نہیں ہے خاطر میں

تو کیا ہے واسطی اور اس کی شاعری کیا ہے


کاظم واسطی

No comments:

Post a Comment