Thursday, 18 March 2021

اگرچہ تو فقط اپنی طرف ہے

 اگرچہ تُو فقط اپنی طرف ہے

گُماں سب کو ہے کہ ان کی طرف ہے

ہے اک جانب خدا اک سمت میں ہوں

بتا اے شخص! تُو کس کی طرف ہے

خدا کی بندی! تم کیوں ڈر رہی ہو

خدا خود بھی محبت کی طرف ہے

میں جس کو تھوڑا تھوڑا دیکھتا ہوں

مِرا سارا دھیاں اس کی طرف ہے

میں کس امید پر انصاف مانگوں

زمانہ بھی تمہاری ہی طرف ہے

مِرے اشعار گو سب کے لیے ہیں

اشارہ پر مِرا تیری طرف ہے

میں سچ کی راہ پر جو گامزن ہوں

سو ہر آفت کا رخ میری طرف ہے

جو اپنی بھی طرف دانش نہیں ہے

مزے کی بات وہ تیری طرف ہے


اعجاز دانش

No comments:

Post a Comment