کبھی نہ کبھی مجھ سے وہ آ ملے گا
مگر سیف کیا اس کو زندہ ملے گا
فلک دیکھ کر مسکراتا ہوا شخص
کسی روز کمرے سے مردہ ملے گا
یونہی سر پٹختا رہا گر پرندہ
کسی دن مجھے خالی پنجرہ ملے گا
ہوئے گردِ بستہ ہیں آئینے سارے
کہاں دیکھنے کو یہ چہرہ ملے گا
بظاہر جو دِکھتا ہے ہوتا نہیں ہے
سمندر بھی اندر سے پیاسا ملے گا
سیف ریاض
No comments:
Post a Comment